
گزشتہ روز ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں ایک روبوٹ نے فیتہ کاٹ کر دنیا کے سب سے پہلے، تھری ڈی پرنٹر سے چھاپے گئے فولادی پل کا افتتاح کردیا۔
بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق یہ پل پیدل چلنے والوں کےلیے بنایا گیا ہے۔ اس کی لمبائی 40 فٹ ہے جبکہ یہ چھ ٹن وزنی ہے۔
ایمسٹرڈیم کے وسط میں ایک چھوٹی سی نہر پر بنائے گئے اس پل کی افتتاحی تقریب میں ہالینڈ کی ملکہ میکسیما کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
پل کا افتتاح کرنے کےلیے ملکہ میکسیما نے بٹن دباکر ایک روبوٹ بازو (روبوٹک آرم) کو متحرک کیا جس نے دو قینچیوں کی مدد سے فیتہ کاٹ کر پل کو عوام کےلیے کھول دیا۔
یہ پل ہالینڈ کی کمپنی ایم ایکس تھری ڈی نے اپنی ورکشاپ میں تھری ڈی پرنٹنگ کی جدید ترین تکنیک استعمال کرتے ہوئے تیار کیا ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی سے تھری ڈی پرنٹنگ میں فولاد جیسے سخت مادوں کے ساتھ ساتھ ویلڈنگ کرنے والے روبوٹس بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
پل تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد صرف صنعتی معیار کی چیزیں کم خرچ بنانا ہی نہیں بلکہ ماہرینِ تعمیرات کو بھی اس قابل بنانا ہے کہ وہ اچھوتے انداز میں اپنے ہنر کا مظاہرہ کرسکیں۔
The post دنیا کا پہلا تھری ڈی پرنٹر سے چھاپا گیا پل appeared first on ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar.
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/3hQXTxT
via IFTTT

No comments:
Post a Comment
please do not enter ant\y spam link in comment box